سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 17
الخوف والخشية: عن سفيان قال: كان عمر بن عبد العزيز رحمه الله يوما ساكتا وأصحابه يتحدثون، فقالوا له: مالك لا تتكلم يا أمير المؤمنين؟ قال: كنت مفكرا في أهل الجنة كيف يتزاورون فيها، وفي أهل النار كيف يصطرخون فيها، ثم بكى. [موسوعة ابن أبي الدنيا 3/182].
اردو ترجمہ
خوف اور خشیت: سفیان بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک دن خاموش تھے اور ان کے ساتھی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ بات کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا: میں سوچ رہا تھا کہ اہل جنت وہاں ایک دوسرے سے کیسے ملیں گے اور اہل دوزخ وہاں کیسے چیخیں گے۔ پھر رو پڑے۔ [موسوعۃ ابن ابی الدنیا 3/182]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔