سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 17

نصیحت 1955

سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 17

الخوف والخشية: عن سفيان قال: كان عمر بن عبد العزيز رحمه الله يوما ساكتا وأصحابه يتحدثون، فقالوا له: مالك لا تتكلم يا أمير المؤمنين؟ قال: كنت مفكرا في أهل الجنة كيف يتزاورون فيها، وفي أهل النار كيف يصطرخون فيها، ثم بكى. [موسوعة ابن أبي الدنيا 3/182].

اردو ترجمہ

خوف اور خشیت: سفیان بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک دن خاموش تھے اور ان کے ساتھی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ بات کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا: میں سوچ رہا تھا کہ اہل جنت وہاں ایک دوسرے سے کیسے ملیں گے اور اہل دوزخ وہاں کیسے چیخیں گے۔ پھر رو پڑے۔ [موسوعۃ ابن ابی الدنیا 3/182]۔

حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔

کارڈ کھولیں ←
↑ اوپر جائیں

منصوبے کو نئے لوگوں تک پہنچائیں

مختصر تعارف، اجر کی یاد دہانی اور عطیے کے صفحے کا براہِ راست لنک شیئر کریں۔

واٹس ایپ پر شیئر کریں

ویب سائٹ کے دورے…