سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 17
الرجاء وإحسان الظن بالله: عن محمد بن إسماعيل البخاري قال: سمعت بعض أصحابنا يقول: عاد حماد بن سلمة رحمه الله سفيان الثوري. فقال سفيان: يا أبا سلمة أترى يغفر الله لمثلي؟ فقال حماد: والله لو خيرت بين محاسبة الله إياي وبين محاسبة أبوي لاخترت محاسبة الله على محاسبة أبوي، وذلك أن الله تعالى أرحم بي من أبوي. [الحلية (تهذيبه) 2 / 336].
اردو ترجمہ
امید اور اللہ سے حسن ظن: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نے اپنے بعض ساتھیوں کو کہتے سنا کہ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ سفیان ثوری کی عیادت کو گئے۔ سفیان نے کہا: ابو سلمہ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ میرے جیسے کو بخش دے گا؟ حماد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ اللہ میرا حساب لے یا میرے والدین، تو میں والدین کے حساب کی بجائے اللہ کا حساب پسند کروں گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے والدین سے زیادہ مجھ پر رحم کرنے والا ہے۔ [الحلیہ (تہذیب) 2 / 336]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔