سلف کی زندگی · صفحہ 20
حفظ اللسان من القول على الله بلا علم: عن نافع أن رجلاً سأل عبد الله بن عمر رضى الله عنه عن مسألة فطأطأ رأسه، ولم يجبه حتى ظن الناس أنه لم يسمع مسألته. فقال له: يرحمك الله أما سمعت مسألتي؟ قال: بلى، ولكنكم كأنكم ترون أن الله تعالى ليس بسائلنا عما تسألونا عنه، اتركنا رحمك الله حتى نتفهم في مسألتك، فإن كان لها جواب عندنا، وإلا أعلمناك أنه لا علم لنا به. [صفة الصفوة 1/268].
اردو ترجمہ
اللہ کے بارے میں بے علمی سے بات کرنے سے زبان کو بچانا: نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے سر جھکا لیا اور جواب نہ دیا، حتیٰ کہ لوگوں نے سمجھا کہ انہوں نے سوال سنا ہی نہیں۔ اس شخص نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، کیا آپ نے میرا سوال نہیں سنا؟ فرمایا: سنا ہے، لیکن گویا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ تم ہم سے پوچھتے ہو، اللہ تعالیٰ ہم سے اس کے بارے میں بازپرس نہیں کرے گا۔ اللہ تم پر رحم فرمائے، ہمیں مہلت دو تاکہ تمہارا مسئلہ سمجھیں۔ اگر ہمارے پاس اس کا جواب ہوا تو بتائیں گے، ورنہ بتا دیں گے کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ [صفة الصفوة 1/268].
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔