سلف کی زندگی · صفحہ 21
أهمية تذكر الموت والاستعداد له: نظر أبو مطيع رحمه الله يومًا إلى داره، فأعجبه حسنها، فبكى ثم قال: والله لولا الموت لكنت بكِ مسرورًا، ولولا ما نصير إليه من ضيق القبور لقرت بالدنيا أعيننا، ثم بكى بكاءً شديدًا، حتى ارتفع صوته. [موسوعة ابن أبي الدنيا 5/432].
اردو ترجمہ
موت یاد رکھنے اور اس کی تیاری کی اہمیت: ابو مطیع رحمہ اللہ نے ایک دن اپنے گھر کو دیکھا، اس کی خوب صورتی پسند آئی تو رو پڑے اور کہا: اللہ کی قسم! موت نہ ہوتی تو میں تجھ سے خوش ہوتا۔ قبر کی تنگی کی طرف جانا نہ ہوتا تو دنیا سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔ پھر اتنا روئے کہ آواز بلند ہو گئی۔ [موسوعة ابن أبي الدنيا 5/432].
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔