صفحہ 6
الصلاة وأهميتها: عن محمد بن سماعة القاضي رحمه الله أنه قال: مكثت أربعين سنة لم تفتني التكبيرة الأولى إلا يومًا واحدًا ماتت فيه أمي، ففاتني فيه صلاة واحدة في جماعة، فقمت فصليت خمسًا وعشرين صلاة أريد بذلك التضعيف فغلبتني عيني، فأتاني آت فقال: يا محمد قد صليت خمسًا وعشرين صلاة ولكن كيف لك بتأمين الملائكة؟ [المنتظم 11 / 197].
اردو ترجمہ
نماز اور اس کی اہمیت: قاضی محمد بن سماعہ رحمہ اللہ نے کہا: چالیس سال میری پہلی تکبیر نہیں چھوٹی، سوائے اس ایک دن کے جب میری والدہ فوت ہوئیں۔ اس دن ایک باجماعت نماز چھوٹ گئی، تو میں نے اٹھ کر پچیس نمازیں پڑھیں، کئی گنا اجر چاہتا تھا۔ پھر نیند غالب آئی تو خواب میں کوئی آیا اور کہا: محمد! تم نے پچیس نمازیں پڑھ لیں، لیکن فرشتوں کی آمین تمہیں کیسے ملے گی؟ [المنتظم 11 / 197]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔