صفحہ 11

نصیحت 3461

صفحہ 11

ماخذ میں خط «ابن زيد» کا ہے، جبکہ قصے کی ابتدا میں «ابن زياد» ہے۔ خاموشی سے یکساں کیے بغیر اقتباس کا نام برقرار رکھا گیا ہے۔

حال السلف مع الفتن والمحن: قال عثمان بن الهيثم: كان رجل بالبصرة من بني سعد، وكان قائدًا من قواد عبيد الله بن زياد فسقط عن السطح، فانكسرت رجلاه، فدخل عليه أبو قلابة رحمه الله يعوده، فقال له: أرجو أن تكون لك خيرة. فقال له: يا أبا قلابة وأيّ خيرٍ في كسْر رجليّ جميعًا؟ فقال: ما ستر الله عليك أكثر. فلما كان بعد ثلاث ورد عليه كتاب من ابن زيد: أن يخرج فيقاتل الحسين، فقال للرسول: قد أصابني ما ترى، فما كان إلا سبعًا حتى وافى الخبر بقتل الحسين، فقال الرجل: رحم الله أبو قلابة لقد صدق، إنه كان خِيرة لي. [صفة الصفوة 3/68].

اردو ترجمہ

فتنوں اور آزمائشوں میں سلف کا حال: عثمان بن ہیثم نے کہا: بصرہ میں بنو سعد کا ایک شخص عبید اللہ بن زیاد کا فوجی قائد تھا۔ چھت سے گرا تو دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ عیادت کو آئے اور کہا: امید ہے اس میں تمہارے لیے بھلائی ہو۔ اس نے کہا: اے ابو قلابہ! دونوں ٹانگیں ٹوٹنے میں کیا بھلائی؟ کہا: اللہ نے جو تم سے چھپایا ہے وہ زیادہ ہے۔ تین دن بعد ابن زید کا خط آیا کہ نکل کر حسین سے لڑو۔ اس نے قاصد سے کہا: میری حالت دیکھ رہے ہو۔ سات دن ہی گزرے کہ حسین کے قتل کی خبر آئی۔ اس نے کہا: اللہ ابو قلابہ پر رحم کرے! وہ سچے تھے، یہ میرے لیے خیر تھی۔ [صفۃ الصفوۃ 3 / 68]۔

حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔

کارڈ کھولیں ←
↑ اوپر جائیں

منصوبے کو نئے لوگوں تک پہنچائیں

مختصر تعارف، اجر کی یاد دہانی اور عطیے کے صفحے کا براہِ راست لنک شیئر کریں۔

واٹس ایپ پر شیئر کریں

ویب سائٹ کے دورے…