صفحہ 11
حال السلف مع الفتن والمحن: عن حذيفة المرعشي قال: دخلنا مكة مع إبراهيم بن أدهم رحمه الله، فإذا شقيق البلخي قد حج في تلك السُّنَّة، فاجتمعنا في شق الطواف، فقال إبراهيم لشقيق: على أي شيء أصَّلتم أصلكم؟ قال: أصَّلنا أصلنا على أنا إذا رزقنا أكلنا، وإذا منعنا صبرنا، فقال إبراهيم: هكذا تفعل كلاب بلخ، فقال له شقيق: فعلى ماذا أصَّلتم؟ قال: أصَّلنا على أنا إذا رُزقنا آثرنا وإذا مُنعنا شكرنا وحمدنا، فقام شقيق فجلس بين يدي إبراهيم فقال: يا أستاذ، أنت أستاذنا. [الحلية (تهذيبه) 2 / 492].
اردو ترجمہ
فتنوں اور آزمائشوں میں سلف کا حال: حذیفہ مرعشی کہتے ہیں: ہم ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کے ساتھ مکہ آئے۔ شقیق بلخی نے بھی اس سال حج کیا تھا۔ طواف کے ایک طرف جمع ہوئے تو ابراہیم نے پوچھا: اپنی بنیاد کس پر رکھی؟ کہا: رزق ملے تو کھاتے ہیں، نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔ ابراہیم نے کہا: بلخ کے کتے بھی ایسا کرتے ہیں۔ شقیق نے پوچھا: آپ کی بنیاد کیا ہے؟ کہا: رزق ملے تو دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، نہ ملے تو شکر اور حمد کرتے ہیں۔ شقیق اٹھ کر ابراہیم کے سامنے بیٹھ گئے اور کہا: استاد! آپ ہمارے استاد ہیں۔ [الحلیۃ (تہذیب) 2 / 492]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔