سلام کو عام کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أيُّ الْإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ: ((تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ)).
رومن تلفظ
Wa ʿan ʿAbdillāhi-bni ʿAmrin raḍiyallāhu ʿanhumā: Anna rajulan saʾalan-Nabiyya ṣallallāhu ʿalayhi wa sallama ayyu-l-islāmi khayrun, qāla: Tuṭʿimuṭ-ṭaʿāma, wa taqraʾus-salāma ʿalā man ʿarafta wa man lam taʿrif.
اردو ترجمہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اور جسے جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے سب کو سلام کرو۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔