اندراج 93
عبد العزیز الدیرینی کی طہارۃ القلوب سے مناجات یا حمد و ثنا ہے، حدیث نبوی نہیں۔ اصل مطبوعہ صفحات سے مکمل کی گئی ہے، دار الکتب العلمیہ کے ۲۰۰۳ کے نسخے کی قراءت کے مطابق۔
إلهي كيف يناجيك في الصلوات من يعصيك في الخلوات لولا حلمك، أم كيف يدعوك في الحاجات من ينساك عند الشهوات لولا فضلك، أم كيف تنام العيون وفي كل ليلة تقول هل من تائب، هل من مستغفر، هل من سائل، أم كيف كفت الأكف عن سؤالك وسيل الجود سائل، أم كيف ينقطع عنك من لم تقطع عنه الوسائل، أم كيف يباع الباقي بالفاني وإنما هي أيام قلائل؟ اللهم ارزقنا حسن الإقبال عليك والإصغاء إليك والفهم عنك والبصيرة في أمرك والنفاذ في طاعتك والمواظبة على إرادتك والمبادرة إلى خدمتك وحسن الأدب في معاملتك والتسليم إليك والرضا بقضائك.
اردو ترجمہ
میرے معبود، تیرے حلم کے بغیر وہ شخص نماز میں تجھ سے مناجات کیسے کر سکتا ہے جو تنہائی میں تیری نافرمانی کرتا ہے؟ تیرے فضل کے بغیر وہ ضرورت میں تجھے کیسے پکار سکتا ہے جو خواہشوں کے وقت تجھے بھول جاتا ہے؟ آنکھیں کیسے سو سکتی ہیں جبکہ تو ہر رات فرماتا ہے: «کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے؟ کوئی سوال کرنے والا ہے؟» ہاتھ تجھ سے مانگنے سے کیسے رک گئے جبکہ سخاوت کا دریا بہہ رہا ہے؟ کوئی تجھ سے تعلق کیسے توڑ سکتا ہے جبکہ تو نے اپنے تک پہنچنے کے راستے بند نہیں کیے؟ باقی رہنے والی چیز فانی کے بدلے کیسے بیچی جا سکتی ہے جبکہ یہ صرف چند دن ہیں؟ اے اللہ، ہمیں اپنی طرف اچھے طریقے سے رجوع، اپنی بات توجہ سے سننے، اپنی طرف سے سمجھ، اپنے حکم میں بصیرت، اپنی اطاعت میں ثابت قدمی، اپنی طلب میں دوام، اپنی خدمت میں سبقت، اپنے ساتھ معاملے میں حسنِ ادب، اپنے سامنے تسلیم اور اپنی قضا پر رضا عطا فرما۔
عبد العزيز الديريني، طهارة القلوب والخضوع لعلام الغيوب، دار الكتب العلمية، ٢٠٠٣