سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 17
الرجاء وإحسان الظن بالله: عن حيان أبي النضر أن واثلة بن الأسقع رضى الله عنه دخل على يزيد بن الأسود، وهو ثقيل، وقد وُجِّه، وقد ذهب عقله، فقال واثلة: أما تخبرني عن شيء أسألك عنه؟ كيف ظنك بالله؟ قال: أغرقتني ذنوب، وأشفيت على هلكة، ولكن أرجو رحمة الله، فكبر واثلة، وكبر أهل البيت تكبيرة، وقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يقول الله: أنا عند ظن عبدي فليظن بي ما شاء. [موسوعة ابن أبي الدنيا 5/306].
اردو ترجمہ
امید اور اللہ سے حسن ظن: حیان ابو نضر بیان کرتے ہیں کہ واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ یزید بن اسود کے پاس آئے۔ وہ سخت بیمار تھے، انہیں قبلے کی طرف کر دیا گیا تھا اور ہوش جاتا رہا تھا۔ واثلہ نے کہا: کیا میرے سوال کا جواب دو گے؟ اللہ سے تمہارا گمان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: گناہوں نے مجھے ڈبو دیا ہے اور میں ہلاکت کے کنارے ہوں، لیکن اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں۔ واثلہ نے اللہ اکبر کہا، گھر والوں نے بھی تکبیر کہی۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، پس وہ مجھ سے جیسا چاہے گمان رکھے۔ [موسوعۃ ابن ابی الدنیا 5/306]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔