سلف صالحین کی زندگی · صفحہ 18
الرجاء وإحسان الظن بالله: عن مالك بن دينار قال: رأيت مسلم بن يسار رحمه الله في منامي بعد موته بسنة، فسلمت عليه فلم يرد عليَّ السلام، فقلت: لم لا ترد عليّ السلام؟ فقال: أنا ميت وكيف أرد عليك السلام، فقال: وماذا لقيت بعد الموت؟ قال: فدمعت عينا مالك عند ذلك، فقال: لقد لقيت والله أهوالا وزلازل عظاما شدادًا، قلت: فما كان بعد ذلك؟ قال: وما تراه أن يكون من الكريم، قبل منا الحسنات وعفا عن السيئات، وضمن عنا التبعات، قال: ثم شهق مالك شهقة خر مغشيًا عليه، فلبث بعد ذلك أيامًا مريضًا من غشيته.[موسوعة ابن أبي الدنيا 1/115].
اردو ترجمہ
امید اور اللہ سے حسن ظن: مالک بن دینار کہتے ہیں: میں نے مسلم بن یسار رحمہ اللہ کو وفات کے ایک سال بعد خواب میں دیکھا۔ سلام کیا تو جواب نہ دیا۔ میں نے پوچھا: میرے سلام کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ کہا: میں مر چکا ہوں، تمہیں سلام کا جواب کیسے دوں؟ میں نے پوچھا: موت کے بعد کیا پیش آیا؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے مالک کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! بہت بڑے، سخت ہول اور لرزا دینے والے حالات پیش آئے۔ میں نے پوچھا: پھر کیا ہوا؟ کہا: کریم سے تم کیا توقع رکھتے ہو؟ اس نے ہماری نیکیاں قبول کیں، برائیاں معاف کیں اور ہماری جواب دہیوں کی ذمہ داری اٹھا لی۔ پھر مالک نے ایسی آہ بھری کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے، اور اس بے ہوشی کے بعد کئی دن بیمار رہے۔ [موسوعۃ ابن ابی الدنیا 1/115]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔