سلف کی زندگی · صفحہ 20

نصیحت 2257

سلف کی زندگی · صفحہ 20

الأمانة والمسؤولية: عن عمرو بن ميمون قال: لما طُعن عمر رضى الله عنه دخل عليه رجل شاب فقال: أبشر يا أمير المؤمنين ببشرى الله، قد كان لك من القِدَم في الإسلام والصحبة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قد علمت، ثم استُخلفت فعدلت، ثم الشهادة، قال: يا ابن أخي لوددت أني تُركت كفافا، لا لي ولا علي. [موسوعة ابن أبي الدنيا 5/353].

اردو ترجمہ

امانت اور ذمہ داری: عمرو بن میمون کہتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مارا گیا تو ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور کہا: امیر المومنین! اللہ کی خوش خبری قبول کیجیے۔ اسلام میں آپ کی سبقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت آپ کو معلوم ہے، پھر آپ خلیفہ بنے اور عدل کیا، اور اب شہادت! فرمایا: بھتیجے! میری آرزو ہے کہ مجھے برابر سرابر چھوڑ دیا جائے؛ نہ میرے حق میں کچھ ہو، نہ میرے خلاف۔ [موسوعة ابن أبي الدنيا 5/353].

حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔

کارڈ کھولیں ←
↑ اوپر جائیں

منصوبے کو نئے لوگوں تک پہنچائیں

مختصر تعارف، اجر کی یاد دہانی اور عطیے کے صفحے کا براہِ راست لنک شیئر کریں۔

واٹس ایپ پر شیئر کریں

ویب سائٹ کے دورے…