سلف کی زندگی · صفحہ 20

نصیحت 2318

سلف کی زندگی · صفحہ 20

حال السلف عند الموت: عن يحيى بن آدم قال: لما حضرت مسعرًا رحمه الله الوفاة، دخل عليه سفيان الثوري، فوجده جزعًا، فقال له: لم تجزع؟ فوالله لوددت أني مت الساعة. فقال مسعر: أقعدوني فأعاد عليه سفيان الكلام فقال: إنك إذًا لواثق بعملك يا سفيان، لكني والله لكأني على شاهق جبل، لا أدري أين أهبط، فبكى سفيان فقال: أنت أخوف لله - عزَّ وجلَّ - مني. [الحلية (تهذيبه) 2 / 420].

اردو ترجمہ

موت کے وقت سلف کا حال: یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: مسعر رحمہ اللہ کی وفات قریب آئی تو سفیان ثوری ان کے پاس آئے اور انہیں گھبرایا ہوا پایا۔ کہا: کیوں گھبراتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میری تو آرزو ہے کہ ابھی مر جاؤں۔ مسعر نے کہا: مجھے بٹھاؤ۔ سفیان نے اپنی بات دہرائی تو مسعر نے کہا: سفیان! پھر تو آپ کو اپنے عمل پر اعتماد ہے، مگر اللہ کی قسم! میں خود کو بلند پہاڑ پر محسوس کرتا ہوں، نہیں جانتا کہاں گروں گا۔ سفیان رو پڑے اور کہا: آپ مجھ سے زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرتے ہیں۔ [الحلية (تهذيبه) 2 / 420].

حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔

کارڈ کھولیں ←
↑ اوپر جائیں

منصوبے کو نئے لوگوں تک پہنچائیں

مختصر تعارف، اجر کی یاد دہانی اور عطیے کے صفحے کا براہِ راست لنک شیئر کریں۔

واٹس ایپ پر شیئر کریں

ویب سائٹ کے دورے…