صفحہ 5
نساء السلف: عن عبدة بنت أبي شوال قالت: كانت رابعة رحمها الله تصلي الليل كله فإذا طلع الفجر هجعت في مصلاها هجعة خفيفة حتى يسفر الفجر، قالت: فكنت أسمعها تقول إذا وثبت من رقدتها: ويلك يا نفس كم تنامين؟ وإلى كم لا تقومين؟ أوشك أن تنامي نومة لا تقومين منها إلا بصرخة يوم النشور، قالت: فكان هذا دأبها دهرها حتى ماتت. [موسوعة ابن أبي الدنيا 1/268].
اردو ترجمہ
سلف کی خواتین: عبدہ بنت ابی شوال کہتی ہیں: رابعہ رحمہا اللہ ساری رات نماز پڑھتیں۔ فجر طلوع ہوتی تو اپنی جائے نماز پر تھوڑی دیر سوجاتیں، یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی۔ جب نیند سے اٹھتیں تو میں انہیں کہتے سنتی: اے نفس! تیری ہلاکت ہو، کتنا سوئے گا؟ کب تک نہیں اٹھے گا؟ جلد ایسی نیند سوئے گا جس سے روز حشر کی پکار ہی پر اٹھے گا۔ ان کی وفات تک ساری عمر یہی معمول رہا۔ [موسوعۃ ابن ابی الدنیا 1 / 268]۔
حوالہ: اصل کارڈ کے متن میں دیے گئے حوالے دیکھیں۔ تفصیلی ماخذ الگ درج نہیں۔