اندراج 83
مذکورہ ادبی ماخذ سے مناجات یا حمد و ثنا ہے، حدیث نبوی نہیں۔ منتخب حصہ اصل سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس کی نسبت بیان کرنا سند کی صحت کا حکم نہیں۔
ربِّ: لمن أقصد وأنت المقصود، وإلى مَن أتوجه وأنت الموجود، ومَن ذا الذي يعطي وأنت صاحب الكرم والجود، ومن ذا الذي أسأل وأنت الرب المعبود، وهل في الوجود ربٌّ سواك فيُدعى، أم هل في الملك إله غيرك فيُرجى وإليه يُسعى، أم هل كريمٌ غيرُك يطلب منه العطا، أم هل جواد سواك فيُسأل منه الرضا، أم هل حليم غيرك فيُنال منه الفضل والنُعمى، أم هل رحيم غيرك في الأرض والسما، أم هل حاكم سواك فترفع إليه الشكوى، أم هل طبيب غيرك فيكشف الضر والبلوى، أم هل رؤوف غيرك للعبد الفقير يعتمد عليه، أم هل مليك سواك تبسط الأكف بالدعاء إليه، فليس إلا كَرمُك وجودك لقضاء الحاجات، وليس إلا فضلك ونعمك لإجابة الدعوات. يا من لا ملجأ ولا منجى منه إلا إليه، يا من يجير ولا يُجار عليه، ألهمتنا فعرفنا، وفهمتنا ففهمنا، وعلمتنا فعلمنا. أغيرك هنا رب فيرجى، أم جواد ثم فيسأل منه العطاء وإليه يلجأ؟ قد جفاني القريب وملني الطبيب، واشتد بي الكرب والنحيب، وأنت الودود القريب الرؤوف المجيب، المجيد الحبيب، المعافي الطبيب.
اردو ترجمہ
میرے رب! کس کو طلب کروں جبکہ تو ہی مطلوب ہے؟ کس کی طرف متوجہ ہوں جبکہ تو ہی موجود ہے؟ کون دے جبکہ تو کرم و سخاوت کا مالک ہے؟ کس سے سوال کروں جبکہ تو ہی عبادت کے لائق رب ہے؟ کیا تیرے سوا کوئی رب موجود ہے جسے پکارا جائے، یا تیرے ملک میں کوئی اور معبود ہے جس سے امید رکھی اور جس کی طرف کوشش کی جائے؟ کیا تیرے سوا کوئی کریم ہے جس سے عطا مانگی جائے، یا کوئی سخی ہے جس سے رضا طلب کی جائے؟ کیا تیرے سوا کوئی بردبار ہے جس سے فضل و نعمت حاصل ہو، یا زمین و آسمان میں کوئی اور رحم کرنے والا ہے؟ کیا تیرے سوا کوئی حاکم ہے جس کے حضور شکایت پیش ہو، یا کوئی طبیب ہے جو تکلیف اور آزمائش دور کرے؟ کیا تیرے سوا کوئی شفقت فرمانے والا ہے جس پر محتاج بندہ بھروسا کرے، یا کوئی بادشاہ ہے جس کے حضور دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے جائیں؟ ضروریات پوری کرنے کے لیے تیرا ہی کرم و جود ہے اور دعائیں قبول کرنے کے لیے تیرا ہی فضل و انعام۔ تجھ سے بچنے کے لیے تیرے سوا کوئی پناہ یا نجات نہیں؛ تو پناہ دیتا ہے اور تیرے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ تو نے ہمیں الہام دیا تو ہم نے پہچانا، سمجھ عطا کی تو ہم سمجھے، اور علم دیا تو ہم نے جانا۔ کیا یہاں کوئی اور رب ہے جس سے امید رکھی جائے، یا کوئی اور سخی ہے جس سے عطا طلب کی اور جس کی پناہ لی جائے؟ قریبی شخص نے مجھ سے دوری اختیار کی، طبیب مجھ سے اکتا گیا اور میری مصیبت اور آہ و زاری بڑھ گئی۔ مگر تو محبت فرمانے والا، قریب، شفقت فرمانے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے؛ بزرگی والا اور محبوب، عافیت دینے والا طبیب ہے۔
يوسف النبهاني، جامع الثناء على الله، الورد الثالث، الصفحات 107,108