اندراج 117
الخلاصہ میں ابو بکر بن سالم کے ورد سے مناجات ہے، حدیث نبوی نہیں۔ یہاں مذکورہ سرکاری ماخذ کا مکمل متن منتخب کیا گیا ہے، جس کے الفاظ سابق اقتباس سے مختلف ہیں؛ دونوں نسخوں کو ملایا نہیں گیا۔
اللهم يا عظيم السلطان، يا قديم الإحسان، يا دائم النعم، يا كثير الجود، يا واسع العطاء، يا خفي اللطف، يا جميل الصنع، يا حليمًا لا يعجل، صل يا رب على سيدنا محمد وآله وسلم وارض عن الصحابة أجمعين. اللهم لك الحمد شكرًا، ولك المن فضلًا، وأنت ربنا حقًا، ونحن عبيدك رقًا، وأنت لم تزل لذلك أهلًا. يا ميسر كل عسير، ويا جابر كل كسير، ويا صاحب كل فريد، ويا مغني كل فقير، ويا مقوي كل ضعيف، ويا مأمن كل مخيف، يسر علينا كل عسير فتيسير العسير عليك يسير.
اردو ترجمہ
اے اللہ! اے عظیم اقتدار والے، قدیم احسان والے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں والے، کثرتِ جود والے، وسیع عطا والے، پوشیدہ لطف والے، خوب صورت صنعت والے، اے حلم والے جو جلدی نہیں کرتا! اے رب، ہمارے سردار محمد اور ان کی آل پر رحمت اور سلام نازل فرما اور تمام صحابہ سے راضی ہو۔ اے اللہ! شکر کے طور پر حمد تیرے لیے ہے، اور فضل کے طور پر احسان تیرے لیے ہے۔ تو حقیقت میں ہمارا رب ہے اور ہم تیرے مملوک بندے ہیں، اور تو ہمیشہ اس کا اہل رہا ہے۔ اے ہر مشکل آسان کرنے والے، ہر شکستہ کو جوڑنے والے، ہر اکیلے کے ساتھی، ہر فقیر کو بے نیاز کرنے والے، ہر کمزور کو قوت دینے والے، اور ہر خوفناک چیز سے پناہ دینے والے! ہماری ہر مشکل آسان کر دے، کیونکہ مشکل آسان کرنا تیرے لیے آسان ہے۔
الخلاصة، ورد أبي بكر بن سالم